چینی اجرامِ فلکی کے ماہرین کا کارنامہ، خلا میں 2 نئے ستارے دریافت کر لیے، ماہرین نے تفصیلات جاری کر دیں

چین کے ماہرین نے دنیا کی سب سے بڑے ٹیلی اسکوپ سے خلا میں 2 نئے ستارے دریافت کرلیے،یہ ستارے زمین سے 16 ہزار نوری سال اور 4 ہزار ایک سو نوری سال کے فاصلے پر ہیں، جن کی معمول کی گردش کا عرصہ 1.83 سکینڈ اور 0.59 سیکنڈ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ستاروں کی دریافت سے متعلق ماہرین گزشتہ ایک سال سے سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سال بعد انہیں بالآخر اس میں کامیابی ملیاور انہوں نے چین کی سب سے بڑی سنگل ڈش ریڈیو ٹیلی اسکوپ فاسٹ سے دو نئے ستاروں

Image result for solar system
کا سراغ لگالیا۔چین کی قومی خلائی رصد گاہ (آسٹرو نومیکل آبزرویٹریز) کے مطابق ان دو ستاروں کو جے 1859۔01 اور جے 1931۔01 کا نام دیا گیا ہے، یہ ستارے زمین سے 16 ہزار نوری سال اور 4 ہزار ایک سو نوری سال کے فاصلے پر ہیں، جن کی معمول کی گردش کا عرصہ 1.83 سکینڈ اور 0.59 سیکنڈ ہے۔ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ چین کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ کے حجم کے مساوی ٹیلی اسکوپس کو عمومی طور پر آزمائش کے لیے تین سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن ایک سال میں ہی ایسی دریافت بہت ہی حوصلہ افزاہے۔چین کی قومی اجرامِ فلکی رصد گاہ کے چیف کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ نے دو ستاروں کو جنوبی کہکشاں کی اسکیننگ کے دوران 22 اور 25 اگست کو دریافت کیا گیا۔واضح رہے کہ چین نے خلا میں موجود ستاروں، کہکشاؤں اور پوشیدہ رازوں کو جاننے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دور بین تیار کی، فاسٹ نامی اس ٹیلی اسکوپ کی تیاری میں تقریبا 18 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی اور اس کی تکمیل میں 5 برس کا عرصہ لگا۔دوربین کا حجم فٹبال کے 30 اسٹیڈیم جتنا ہے جبکہ اس میں 500 میٹر قطر کے ریفلیکٹرز اور 4450 پینلز نصب کیے گئے ہیں علاوہ ازیں ٹیلی اسکوپ میں دیگر جدید آلات بھی نصب کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے آسمان اور خلا کا نظارہ دیگر کے مقابلے میں دگنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں