’مسلمان باپ اپنی بیٹیوں سے شادی کرسکتے ہیں اگرمصری مفتی نے تاریخ کا متنازعہ ترین فتویٰ دے دیا، ہر مسلمان کے ہوش اُڑادئیے

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ باپ اپنی بیٹی سے کسی طور شادی نہیں کر سکتا لیکن اب مصر کے ایک مفتی نے اس حوالے سے ایسی بات کہہ دی ہے کہ دنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مصر کی معتبر یونیورسٹی الاظہر کے مفتی مازین السرساوی کا کہنا ہے کہ ”مرد اپنی اس بیٹی سے شادی کر سکتا ہے جو شادی کے بغیر پیدا ہوئی ہو۔“ انہوں نے اپنے بیان میں امام شافی رحمتہ اللہ علیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ”شادی کے بغیر ناجائز طور پر پیدا ہونے والی بیٹی سرکاری طور پر اپنے باپ سے منسوب نہیں ہوتی لہٰذا اس سے شادی کی جا سکتی ہے۔“مازین السرساوی نے اپنے اس بیان پر مبنی ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے جسے دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ ”امام شافی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول مشہور ہے کہ جو بیٹیاں شادی کے بغیر پیدا ہوں ان کے باپ ان سے شادی کر سکتے ہیں کیونکہ ناجائز طور پر پیدا ہونے والی بیٹی درحقیقت اس شخص کی بیٹی نہیں ہوتی۔وہ اپنے باپ کا نام استعمال نہیں کر سکتی چنانچہ شریعت میں بھی اور سرکاری سطح پر بھی یہ اس شخص کی بیٹی قرار نہیں پاتی۔“ ویڈیو پر کمنٹس میں لوگ اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک شخص نے لکھا ہے کہ ”یہ کیا پاگل پن ہے؟“

اپنا تبصرہ بھیجیں