رزق کے متعلق اللہ کی ضمانت

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: “میں نے قرآن میں نوے جگہوں پر پڑھا کہ اللہ تعالٰی نے ہر بندے کی تقدیر میں رزق لکھ دیا ہے اور اُسے اس بات کی ضمانت دیدی ہے” اور میں نے قرآن شریف میں صرف ایک مقام پر پڑھا کہ: شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے۔

ہم نے سچے رب کا نوے مقامات پر کئے ہوئے وعدے پر تو شک کیا مگر جھوٹے شیطان کی صرف ایک مقام پر کہی ہوئی بات کو سچ جانا۔ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اگر اللہ تعالیٰ پردے ہٹا کر بندے کو دکھا دے کہ وہ اپنے بندے کے معاملات سہارنے کیلئے کیسی کیسی تدبیریں کرتا ہے اور وہ اپنے بندے کی مصلحتوں کی کیسی کیسی حفاظتیں کرتا ہے۔ اور وہ کس طرح اپنے بندے کیلئے اُس کی ماں سے بھی زیادہ شفیق ہے، تب کہیں جا کر بندے کا دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوگا،

اور تب کہیں جا کر بندہ اپنا دل اللہ کیلئے قربان کرنے پر کمر بستہ ہوگا۔ تو پھر اگر دُنیا کے تمہیں غموں نے تھکا دیا ہے تو کوئی غم نا کریں، ہو سکتا ہے اللہ تمہاری دعاؤں کی آواز سننے کا خواہاں ہو۔ تو پھر رکھیئے سر کو سجدے میں اور کہہ دیجیئے جو کچھ دل میں ہے۔حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: “میں نے قرآن میں نوے جگہوں پر پڑھا کہ اللہ تعالٰی نے ہر بندے کی تقدیر میں رزق لکھ دیا ہے اور اُسے اس بات کی ضمانت دیدی ہے”

اور میں نے قرآن شریف میں صرف ایک مقام پر پڑھا کہ: شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے۔ہم نے سچے رب کا نوے مقامات پر کئے ہوئے وعدے پر تو شک کیا مگر جھوٹے شیطان کی صرف ایک مقام پر کہی ہوئی بات کو سچ جانا۔ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اگر اللہ تعالیٰ پردے ہٹا کر بندے کو دکھا دے کہاور بھول جائیے سب غموں اور مصیبتوں کو کہ وہ اللہ تمہیں کبھی بھی نہیں بھلاتا۔ابراہیم بن ہانی کا بیان ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اﷲ علیہ جب تک میرے مکان میں رہے ان کا معمول رہا کہ دن میں روزہ رکھتے تھے افطار میں جلدی کرتے تھے اور عشاء کے بعد نفل پڑھ کر تھوڑا سو جاتے۔ اس کے بعد اٹھ کر وضو کرتے اوررات بھر نماز میں مشغول رہتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں