سمندر میں کئی سالوں سے بہتی پراسرار کشتی دریافت، اندر کیا موجود تھا؟ ایسا انکشاف کہ ماہرین کیلئے بھی یقین کرنا مشکل ہو گیا

ساحل کے قریب سمندر میں ماہی گیروں کو ایک ایسی کشتی ملی جو کئی سالوں سے ازخود سمندر میں تیر رہی تھی۔ ماہی گیروں نے ماہرین کو اطلاع دی اور جب ماہرین اس کشتی میں سوار ہوئے تو اندر کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

کشتی میں جرمن جہازران اور سیاح مینفریڈ فریز بجوریٹ (Manfred Fritz Bajorat) کی حنوط شدہ لاش موجود تھی۔ مینفریڈ کشتی کے ریڈیو ٹیلیفون کے قریب ایک کرسی پر بیٹھا تھا، اس نے ایک ہاتھ میز پر رکھا ہوا تھا اور میز کے سامنے رکھے ایک خط پر جھکا ہوا تھا۔ وہیں اس کی موت واقع ہو گئی اور ماہرین کے مطابق سمندر کی نمکین ہواﺅں اور گرم درجہ حرارت کے باعث اس کی لاش خودبخود حنوط ہو گئی اور گلی سڑی نہیں۔

بظاہر لگ رہا تھا کہ مینفریڈ خطرے میں تھا اور اپنی آخری کال کرنا چاہ رہا تھا، شاید کسی کو مدد کے لیے بلانا چاہتا ہو۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ”مینفریڈ اپنی اس 40فٹ لمبی کشتی پر گزشتہ 20سال سے دنیا کے گرد گھوم رہا تھا۔“ ماہرین کو اس کے کیبن میں اور بھی کئی چیزیں ملیں جس سے اس کے ماضی کے حالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان اشیاءمیں اس کی کچھ فیملی فوٹوز تھی،

جن میں اس کی کینسر کے باعث انتقال کرجانے والی بیوی، خاندان کے دیگر افراد اور دوستوں کی تصاویر شامل تھیں۔ کیبن میں کھانے پینے کی کچھ چیزیں بھی موجود تھیں۔جس میز پر مینفریڈکی لاش جھکی ہوئی تھی اس پر ایک خط بھی پڑا ہوا تھا جو مینفریڈ نے اپنی آنجہانی بیوی کے نام لکھا تھا۔ ماہرین کے مطابق خط کا متن کچھ یوں تھا” زندگی کے 30سال ہم نے ایک ساتھ گزارے۔

بالآخر موت ہماری مزید ایک ساتھ جینے کی خواہش سے طاقتور ثابت ہوئی اور تم چلی گئیں۔ دعا ہے کہ تم وہاں پرسکون رہو۔ تمہارا مینفریڈ۔“ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ مینفریڈ کی موت کتنا عرصہ قبل واقع ہوئی تاہم یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی حادثے کی وجہ سے نہیں مرا۔

رپورٹ کے مطابق مینفریڈ کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ”ایک سال قبل مینفریڈ نے مجھ سے فیس بک پر بات کی تھی، اس روز اس کی سالگرہ تھی۔“ماہرین اور پولیس اس حوالے سے مزید تحقیقات کر رہے ہیں اور جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخری بار مینفریڈ نے کس شخص سے بات کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں