سرکاری ملازمین تحفہ لیتے پائے گئے تو جیل جائیں گے،سعودی پبلک پراسیکیوشن کا پیغام

سعودی پبلک پراسیکیوشن نے سرکاری ملازمین کو خبردارکیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص سے کسی بھی مد میں کسی قسم کا تحفہ قبول نہ کریں بہ صورت دیگر رشوت ستانی کے جرم میں سزا کے مستحق ہوں گے.

تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت نے اپنی سرکاری ملازمین کے لیے سخت اقدامات کرتے ہوئے رشوت ستانی کے خلاف بھرپور مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے سرکاری ملازمیں کے ضابطہ اخلاق کا تعین کیا گیا ہے.سعودی حکومت کے پبلک پراسیکیوشن سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ جس میں سرکاری ملازمین کو تحفے تھائف لینے سے متنبہ کیا گیا ہے.اپنے پیغام میں پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ جو سرکاری ملازم اپنے یا کسی اور شخص کیلئے کسی شخص کا کام کرنے سے قبل کسی تحفے کی فرمائش کرے گا یا بغیر پیشکش کے بھی کوئی تحفہ قبول کرے گا تو اسے قابل گرفت جرم تصور کیا جائے گا.سعوی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کسی کام سے پہلے کسی سے کوئی تحفہ لیتا پایا گیا تو اسے سرکاری اثر و نفوذ کا نا جائزاستعمال کرنے والا شمار کیا جائے گا اور ایسے ملازمین کو رشوت ستانی کی سزا دی جائے گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں