جنسی عمل کے بارے میں حیرت انگیز ریسرچ، بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئیں!

ازہ ترین ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ جنسی عمل سے متعلق بہت سی باتیں غلط طور پر مشہور ہیں مثلا” یہ کہ جنسی عمل کے نتیجے میں بلڈ پریشر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے- ریسرچ کے مطابق جنسی عمل کے دوران بلڈ پریشر بڑھتا ضرور ہے لیکن کبھی خطرناک حد تک نہیں جاتا-

ریسرچ بتاتی ہے کہ دنیا میں بہت کم لوگ جنسی عمل کے دوران دل کے دورہ سے متاثر ہوئے- ریسرچ کے مندرجات میں بتایا گیا ہے کہ سروے کے مطابق وہ لوگ جو باقاعدگی سے جنسی عمل کرتے ہیں وہ اپنے معاملات کو دیگر لوگوں سے زیادہ بہتر طریقے سے نمٹا نے کی صلاحیت رکھتے ہیں-

رپورٹ کے مطابق الکوحل کی معمولی سے مقدار فی میل میں جنسی عمل کے جذبات مزید ابھارتی ہے جس سے وہ بہتر طریقے سے اپنے ساتھی کے ہمراہ لطف اٹھا سکتی ہیں- ریسرچ بتاتی ہے کہ جنسی عمل کے لیے ویک اینڈ یعنی ہفتے کا دن سب سے موزوں ترین ہے تاہم لندن سکول آف اکنامکس نے اس پوائنٹ سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویک اینڈ کی بجائے جنسی عمل کا سب سے بہترین دن جمعرات ہے

ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرداپنے خوابوں میں خود کو غیر عورت سے جنسی عمل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تاہم ایسا صرف مردوں میں ہی نہیں ہوتا، 80 فیصد شادی شدہ عورتیں بھی خواب میں ان مردوں کے ساتھ جنسی عمل کرتی ہیں جو ان کے شوہر نہیں ہرتے جبکہ مردوں میں یہ تناسب 98 فیصد پایا جاتا ہے-

ریسرچ بتاتی ہے کہ جنسی عمل کا انسان کی ذہانت سے بھی گہرا تعلق ہے اور اس عمل سے ذہانت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے- یونیورسٹی آپ میری لینڈ نے چوہوں پر تجربہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے کہ سیکس سے ذہانت میں اضافہ کے واضح شواہد پائے گئے

ہیں تاہم ابھی تک یہ تجربہ انسانوں پر نہیں آزمایا گیا-رپورٹ کے مطابق یہ غلط فہمی بھی عام ہے کہ جنسی عمل کے دوران زیادہ کیلوریز استعمال ہوتی ہیں، یہ خیال بھی غلط ہے، مرد وعورت دونوں کی جنسی عمل کی دوران 4.5کیلوریز استعمال ہوتی ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں