سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں بری موت سے بچنے کا آسان طریقہ

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتے ہیں کہ حضرت حارث بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بینائی جا چکی تھی‘ انہوں نے اپنے نماز کی جگہ سے لے کر اپنے کمرے کے دروازے تک ایک ایسی رسی باندھ رکھی تھی کہ جب دروازے پر کوئی مسکین آتا تواپنے ٹوکرے میں سے کچھ لیتے اور رسی کو پکڑ کر دروازے تک جاتے اور خود اپنے ہاتھ سے اس مسکین کو دیتے‘ گھر والے ان سے کہتے آپ کی جگہ ہم جا کر مسکین کو دے آتے ہیں‘

آپ بینائی سے بھی محروم ہیں‘ آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں‘ آپ کے گھر والوں کا اصرار جب حد سے بڑھ جاتا تو آپ فرماتے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسکین کو اپنے ہاتھ سے دینا بری موت سے بچاتا ہے‘ مسکین کو کھانامسکین کو کھانا کھلانے کا کتنا بڑا اجر بتایا ہے سرورکائنات نے‘ کاش ہمیں بھی ایسا ایمان نصیب ہو جائے‘ ہم بھی مسکینوں کو کھانا اسی عزت اور احترام سے کھلائیں اور ہم بھی موت کے وقت ذلت سے محفوظ ہو جائیں۔ (حیاۃ الصحابہ‘ جلد تین‘ صفحہ 234۔۔صدقہ خدا کی پسندیدہ چیز ہے خدا بھی ان سے محبت کرتا ہے جو اس کے بندو سے محبت کرتے ہیں ۔اور دوسروں سے محبت ہی ایک ایسا وصف ہے جواآ د می کو انسان بناتا ہے اور اسے اشرف المخلوقات کے مر تبہ پر فائز کرتا ہے ۔ خدا کو انسان کی کی گئی عبادات سے نہیں اس کے احساس انسانی کی زیادہ قدر ہے جس میں دوسرے بے سہاروں کے لیے درددل رکھتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں