ایک جرم میں دو سزائیں دینا کہاں کا انصاف؟ قومی ٹیم میں واپسی۔۔سابق کپتان نے بڑی بات کہہ دی

لاہور(آئی این پی)پاکستانی کرکٹ سرکٹ میں اس وقت کئی اوپنرز کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ان میں اظہرعلی، سمیع اسلم، فخر زمان، امام الحق، احمد شہزاد، کامران اکمل، مختار احمد، خرم منظور نمایاں ہیں۔لیکن2010کے اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ اوپنر سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ اپنی غلطی پر نادم ہوں، میری خواہش ہے کہ کیئریئر کے آخری سالوں میں پاکستانی ٹیم میں موقع ملے اور کارکردگی دکھاکر اپنے بارے میں منفی تاثر کو ختم کروں۔

انہوں نے کہا کہ ایک واقعہ ہوگیا جس کی سزا بھگت چکا ہوں اور غلطی کا اعتراف کرچکا ہوں اب ایک جرم میں دو سزائیں دینا کہاں کا انصاف ہے۔میرے لئے کوئی اور قانون اور دوسروں کے لئے کوئی اور قانون ہے۔میڈیا میرے کیس کو دیکھ کر میرے معاملے کو دیکھے۔بائیں ہاتھ کے اوپنر سلمان بٹ ک عمر اس وقت 33 سال ہے۔ قومی ٹی20 کپ میں لاہور وائٹس کی نمائندگی کرنے والے کامران اکمل اور سلمان بٹ کے ساتھ اسلام آباد کے خلاف میچ میں اوپننگ پارٹنر شپ میں 209 رنز جوڑ کر ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔سلمان بٹ 2010 میں اسپاٹ فکسنگ کیس کے مرکزی کردار تھے۔ان کا کہنا ہے کہ پانچ سال کی سزا کاٹنے کے بعد مسلسل کارکردگی دکھا رہاہوں اور ایک موقع کا منتظر ہوں۔سلمان بٹ نے کہا کہ میں نے گذشتہ تین سیزن سے جو کارکردگی دکھائی ہے

اس کے مطابق میرٹ پر میری پاکستانی ٹیم میں جگہ بنتی ہے۔اپنے ایک انٹرویو میںسلمان بٹ نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے جتنے بھی اوپنرز کھیل رہے ہیں میرا اسٹرائیک ریٹ سب سے بہتر ہے۔بھارت کے خلاف اپنے آخری ون ڈے میں بھی 79 رنز بنا چکا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک میں تینوں فارمیٹ میں کھیل رہا ہوں اور کارکردگی دکھا رہا ہوں اس بات کا فیصلہ سلیکٹرز کریں گے کہ مجھے کہاں کھلانا ہے۔سلمان بٹ نے کہا کہ قائد اعظم ٹرافی ،قومی ٹی ٹوئینٹی اور ون ڈے ٹورنامنٹ میں کارکردگی کے بعد اس انتظار میں ہوں کہ سلیکٹرز مجھے بھی موقع دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں