ہسپتال کی ایمرجنسی میں بے ہوش مریض کی آمد، ڈاکٹروں نے علاج کرنے کے لئے اس کی قمیض کے بٹن کھولے تو سینے پر ایک ایسا جملہ لکھا تھا کہ افراتفری مچ گئی، ڈاکٹروں نے علاج ہی نہ کیا کیونکہ۔

امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک ہسپتال میں بے ہوش مریض کو لایا گیا لیکن جب ڈاکٹروں نے علاج کرنے اس کی قمیض کے بٹن کھولے تو سینے پر ایسا جملہ لکھا تھا کہ ہسپتال میں کھلبلی مچ گئی اور ڈاکٹروں نے اس کا علاج کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق حیران کن طور پر اس مریض کے سینے پر ٹیٹو کی صورت میں کشیدہ جملے میں لکھا تھا کہ ”مجھے دوبارہ ہوش میں نہ لایا جائے۔“

یہ فقرہ پڑھ کر یونیورسٹی آف میامی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اس کی سی پی آر کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کے لیے مریض یا اس کے لواحقین کی رضامندی لازمی ہوتی ہے، بصورت دیگر ڈاکٹروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شخص کی عمر 70سال کے لگ بھگ تھی اور وہ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے بے ہوش ہوا تھا۔ چند گھنٹے بعد اس کے لواحقین کی تلاش ممکن ہو گئی اور ان کے دستخط لینے کے بعد ڈاکٹروں نے اس شخص کا علاج کیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر گریگ ہولٹ کا کہنا تھا کہ ”یہ ہمارے ساتھ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہوا۔ اس ہسپتال میں پہلے بھی اس نوعیت کے کچھ کیسز آ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں