خیریت سے جائیں

کلمہ گو جہنمی
.
“خیریت سے جائیں اور پہنچ کر میسج کر دینا باجی”
اٹھارہ سالہ نوجوان نے اپنی بڑی بہن کو اکیڈمی پہنچانے کے لیے رکشہ پر سوار کرواتے ہوئے کہا-
رکشہ سوئے منزل چل پڑا اور اس کا ڈرائیور نہایت شفقت اور پرخلوص انداز میں خاتون سے ان کے تعلیمی مرکز کے بارے میں پوچھنے لگا کہ باجی آپ کس جماعت کے طالبِ علموں کو پڑھاتی ہیں؟ میری بیٹی بھی نویں جماعت کے امتحان دے رہی ہے- خاتون نے جب رکشے والے کا اتنا معتبر انداز دیکھا تو بلا جھجک بتایا کہ مَیں فلاں اکیڈمی میں دسویں جماعت کے طالبِ علموں کو اسلامیات پڑھاتی ہوں… رکشے والے نے اپنی بیٹی اور گھر کے کچھ عام حالات کا ذکر کیا اور ساتھ ساتھ بہت انکساری والے انداز میں خاتون سے ان کے بارے میں بھی عام باتیں پوچھنے لگا …
دورانِ گفتگو اچانک ہی رکشے والے کو ایک کال موصول ہوئی جس کے سنتے ہی وہ سکتے میں آ گیا- دوسری جانب سے اسے ایک بہت ہی بری خبر ملی تھی کہ اس کی بیوی سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہو گئی ہے-

ابھی خاتون کی منزل آنے میں کافی سفر باقی تھا- حالات کے پیشِ نظر رکشے والے نے انہیں عرض کی کہ باجی میرا گھر یہاں سے نزدیک ہی ہے، اگر آپ اجازت دیں تو میں صرف پانچ منٹ کے لیے اپنے گھر اپنی بیوی کو دیکھ لوں؟ پھر فوراً ہی آپ کو آپ کی منزل پر پہنچا آؤں گا-
.
خاتون نے کال آنے کے بعد رکشے والے کی پریشان حالت کا بخوبی موازنہ کیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے زخمی ہونے کی خبر سن کر خون کے آنسو رو رہا ہے، دوسری جانب وہ اس کے اعلیٰ اخلاق سے بھی متاثر تھیں اسلیے انسانیت کے ناطے اسے اجازت دے دی-
رکشے والے نے فوراً اپنے گھر کی طرف رُخ کیا- یہ رکشہ چند تنگ گلیوں سے ہوتا ہوا ایک کچی آباری میں داخل ہوا اور اب ایسا علاقہ شروع ہو چکا تھا جو زیادہ آباد نہ تھا- خاتون نے اس کے گھر کا فاصلہ دریافت کیا تو کہنے لگا: “محترم بہن ! ہم ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، تھوڑا دُور کے علاقے میں مکانات کے کرائے کم ہوتے ہیں اس لیے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں-”

آج تیرھواں دن تھا اور اب تو وہ سوکھ کر کانٹا ہو چکی تھی- دوپہر کو بھی دو جنسی بھیڑیوں نے اسے ظلم اور بربریت کا نشانہ بنا کر اس کی حالت غیر کر دی تھی- جن پاک ہونٹوں سے وہ بچوں کو احکامِ الہی وفرمانِ رسولﷺ سنایا کرتی تھی انہی پاک ہونٹوں کو تیرہ دن میں جانے کتنے جہنمی تر کر چکے تھے- جس جسم کے محض سر کے بالوں پر بھی کسی نامحرم کی کبھی نظر نہ پڑ سکی تھی اسی جسم کو مکمل برہنا کر کے قید کیا گیا تھا اور بغیر کسی دشمنی کے اتنے دن شدید ظلم کا سامنا کرنا پڑا تھا- مجبور لاچار رسیوں میں بندھی ہوئی برہنہ حالت میں حوا کی بیٹی درد سے کراہتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ اس کا سب کچھ لٹ چکا ہے اب کاش موت یہیں پر آسان ہو جائے-
.
مالی حالات کمزور اور مجبوریاں تو ہوتی ہی ہیں، کچھ بےفکرے کم عقل والدین کو بیٹیوں کی شادی کی کوئی پروا ہی نہیں ہوتی، جبھی تو آج کے دور میں بہت سے بےشعور خاندانوں کی جوان سالہ بہن بیٹی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی اپنے اصل گھر نہیں جاتی بلکہ یہیں ماں باپ بہن بھائیوں کو کما کما کر کھلا رہی ہوتی ہے جو کہ اسلام کے مطابق مرد کے فرائض میں شامل ہے عورت کے نہیں-
.
اس تمام واقعے کی قابلِ غور اور سبق آموز بات یہ ہے کہ جب بھی کبھی کوئی ایسا موقع آئے کہ ہمیں اپنی بہن، بیٹی کو رکشہ میں کہیں بھیجنے کی ضرورت پڑے تو پہلے اس رکشے والے پر اچھی طرح سے نظر ڈال لینی چاہیئے کہ کہیں وہ بہروپیا تو معلوم نہیں ہوتا- اگر کسی رکشہ میں آگے دو افراد بیٹھے ہوں تو اس رکشے کو کبھی نہ روکیں- اپنے کچھ دوستوں کو بہنوں کی بے انتہا خدمت کرتے بھی پایا- وہ دن میں دس دس چکر لگایا کرتے ہیں اورمالی حالات اتنے زیادہ مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے
موٹرسائیکل پر ہی سب بہنوں کو علیحده علیحده ان کے تعلیمی مراکز پر چھوڑ کر آتے ہیں اور پھر واپس بھی خود ہی لے کر آتے ہیں- ایسی باوقار نیک صفت بہنوں اور ان کی خدمت کرنے والے عظیم بھائیوں کو میرا سلام-

اس تحریر کے آغاز میں جو کہانی ہے وہ چند سانپ نما زہریلے اور کلمہ گو جہنمیوں کا اندازِ واردات ظاہر کر رہی ہے اور ایسی کہانی لکھنے کا میرا مقصد یہی تھا کہ میری معصوم اور پاک بہنیں باخبر رہیں- ان کو خاص احتیاط کرنی چاہیئے کہ ان کی چند چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر انہیں اس معاشرے کے درندوں سے بہت بڑی سزا بھی مل سکتی ہے-
.
رب تعالٰی کی زمین پر چند لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو یا تو اپنے آپ کو ہر حال میں جنتّی سمجھتے ہیں یا پھر اس کے بالکل برعکس، کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بخشے جانا ہی نہیں- یہی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ورنہ کوئی اس طریقے سے منافقانہ حکمتِ عملی کے ساتھ کسی کی بہن بیٹی کو اتنے زیادہ ظلم کا نشانہ بنا ہی نہیں سکتا- سوچتے ہوئے بھی روح کانپ جاتی ہے –
.
سولہ سال قبل جاوید اقبال نامی ذہنی مریض نے ایک ایک کر کے سو معصوم بچوں کا قتل کیا تھا اور تیزاب والے ڈرم میں ان کی نعش ڈال دیتا تھا-
گجرات کے نواحی گاؤں میں ایک خاندان کے ستائیس افراد کو چھریوں ٹوکوں سے وار کر کر کے ایک ہی رات میں قتل کیا گیا تھا، پنجاب کے ایک ویران علاقے میں موازدین نامی گاؤں میں تقریبا ہر گھر میں کوئی نہ کوئی بہن بیٹی ڈاکوؤں کا نشانہ بن کر اپنی عصمت لُٹا چکی ہے- سہیل اصغر نامی ڈاکو پھر رِہا ہو چکا ہے، سی پی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق جناب نے بحثیتِ ڈاکو پانچ سو سے زائد وارداتیں اور تیس کے قریب قتل کیے ہیں- لیاری گینگ وار میں سیکڑوں مر چکے ہیں- لاہور میں ملتان روڑ کے گندے نالے سے ہر ماہ ایک نہ ایک لاش ضرور نکالی جاتی ہے، جانے کون اتنا بےدرد ہے کہ ہر ماہ ہی ایک انسانی جان لے لیتا ہے- ایک سال چند ماہ قبل دسمبر میں پشاور کے ایک سکول میں ڈیڑھ سو سے زائد معصوم بچوں اور اساتذہ کو دہشت گردوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا-
ایجنسیوں اور سیاسی مخالفت کے جیالوں نے بغیر کسی وجہ کے معروف قوال، نعت خواں امجد صابری کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ بےگناہ امجد صابری مرحوم کا قصور کیا تھا؟ یہ بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام کرنے والے منحوس لوگ کلمہ ربِ ذوالجلال کا ہی پڑھتے ہیں مگر اعمال ایسے کرتے ہیں کہ جیسے کبھی اللہ کو جواب دینا ہی نہیں۔

میرے مالک میرے داتا اے میرے پروردگار… یہ تیری دنیا میں کیسے انسان بستے ہیں؟ انسانیت کی جان اور کائنات کی سب سے معتبر ہستی محمدﷺ فرماتے ہیں کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا- انہی لوگوں کو قرانِ مجید میں لاتعداد بار اللہ پاک نے حق سے غافل قرار دیا ہے اور جہنم کی آگ میں ڈالنے کا وعدہ کیا ہے-
تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہماری نیک بہن بیٹیوں کو ظالم لوگوں کی شرپسندی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اللہ پاک ہماری بہن بیٹیوں کی عزت ووقار کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایسے شیطان صفت لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے- آمین
اپنے خیالات کا اظہار فرمائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں