چالیس ڈاکٹروں والے خاندان کی کہانی‎

وہ ایک ان پڑھ خاتون تھی جسے والدین نے ایک اسکول ماسٹر ابو ظفر کے ساتھ اس کی زندگی کا ہمسفر بنا کر رخصت کردیا اور یوں عطیہ خاتون کی زندگی ایک نئی ڈگر پہ چل پڑی ۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب خواتین کیلئے تعلیم سے زیادہ ضروری گھر گھرستی کو سمجھاجاتا تھا۔ لڑکی اس وقت تک سگھڑ نہ سمجھی جاتی جب تک وہ گھریلو امو ر ،سلائی کڑھائی اور دیگر کاموں میں کامل نہ ہو ۔عطیہ خاتون بھی ایسی ہی ایک گھر گھرستی والی خاتون تھیں جسے تعلیم کی ابجد کا بھی اندازہ نہیں تھا ۔
خیر وقت گزرنے لگا اور سن 47آپہنچا ۔ اللہ نے پاکستان کی صورت میں ایک خوبصورت انعام سے مسلمانوں کو نوازا اور یوں ابو ظفر اور عطیہ خاتون بے سر و سامانی کی حالت میں پاکستان آگئے ۔ایک نیا جذبہ اور امیدوں کا خزانہ لیے ان پڑھ عطیہ خاتو ن گھر میں ہی اپنے خاوند سے زندگی اور تعلیم کی’’ الف، ب ‘سیکھتے سیکھتے میٹرک تک آپہنچیں ۔ دونوں میاں بیوی خوب محنت کررہے تھے اور جانتے تھے کہ ترقی کا واحد راستہ بس تعلیم ہی ہے جسے حاصل کرکے وہ دنیامیں اپنا الگ مقام بنا سکتے ہیں اور تبھی عطیہ خاتون کے دل میں بچو ں کو ڈاکٹر بنانے کے ساتھ ساتھ خود بھی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کا خیال آیا ۔خواب بڑا تھا مگر عطیہ خاتون کی ہمت سے زیادہ بڑا نہیں ۔ وقت گزرتا گیا۔ ابوظفر اور عطیہ خاتون کے آنگن میں یکےبعد یگرے آٹھ پھول کھلے اور پھر جب ان کا بڑا پھول ٹیپو سلطان ڈو میڈیکل کالج کے آخری سال میں تھا تب عطیہ خاتون کو بھی بیٹے کے ہی میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ ماں باپ نے کسی قبولیت کے لمحے میں دعا کی تھی جو اُن کے آٹھوں بچوں کے حق میں قبول ہوئی اور پھر تھوڑے ہی عرصے میں ماں سمیت آٹھوں بچوں کے ہاتھ میں ڈاکٹری کی ڈگریاں تھیں ۔ اگلی دعا بچوں کیلئے ڈاکٹروں کے رشتے کی تھی جو قبول ہوئی ، یوں ایک ہی خاندان میں 16ڈاکٹر ہو گئے جو اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان چلے گئے ۔وقت یونہی گزر جاتا اگر ایک ایک روز باپ
بچوں کے سامنے یہ سوال نہ اٹھاتا کہ جس ملک نے تم لوگوں کو محض 209روپے سالانہ میں ڈاکٹر بنایا ،کیاتم اسے بھول جاؤ گے ؟ سوال نے بچوں کو جھنجوڑ ڈالا اور سب نے واپسی اختیار کر لی ۔پاکستان پہنچتے ہی بچوں سے جو پہلا آخری وعدہ ابو ظفر اور عطیہ خاتون نے لیا وہ ان کے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کو بھی ڈاکٹری کی تعلیم دلانا تھا ۔ 1999میں ابوظفر کے خاندان نے کراچی کے ایک نواحی علاقے کوہی گوٹھ میں سکونت اختیار کر لی ، وقت ایک بار پھر پر لگا کر اڑ گیا اور اظفر خاندان کی اگلی نسل بھی طب کی تعلیم حاصل کرنے لگی ۔ابوظفر اور عطیہ خاتون اپنا وقت گزار چکے تھے ،بلاواآیا اور انہوں نے سفر آخرت سدھا ر لیا ۔ابو ظفر اور عطیہ خاتون نے واقعی اپنی اولاد کی تربیت مثالی کی تھی ۔ انہوں نے اپنے کراچی والے گھر جس کی موجودہ مالیت کم و بیش 15کروڑ کے لگ بھگ ہے اسے ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا ۔
ہسپتال بنا اور اس کا نام کوہی گوٹھ منتخب ہوا۔ یہ ہسپتال اس قدر مشہور ہوا کہ عالمی اداروں نے اسے زچہ و بچہ کے حوالے سے جنوبی ایشیا کا سب سے بہترین ہسپتال قرار دیا اور یہاں پورے سندھ کی بچیاں مڈ وائفری کی تربیت پاتی ہیں ۔ابوظفر کے بیٹے اب بھی اس ہسپتال کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ اب وہ اس جگہ دنیا کی ایک بہترین یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں جس پر کام جاری ہے ۔نپولین بونا پارٹ نے واقعی بہت خوب کہا تھا کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں دنیاکی بہترین قوم دوں گا ۔
عطیہ خاتون نے ثابت کیا کہ ان پڑھ ہونے کے باعث ترقی اور آگے بڑھنے کا خواب نہ دیکھنے والے نادان ہیں ۔ انسان کوکیوں اشرف المخلوقات بنایا گیا؟ اس کی شاندار مثال عطیہ خاتون نے دی۔ آ پ کے کل کی وجہ سے، آپ آج کیا ہیں ؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر آپ کے آج کے بعد آپ کل کیا ہونگے ؟ بس یہی بنیادی بات ہے۔ غریب یا امیر؟ ، برا یا اچھا ؟ بے ایمان یا ایماندار ہونایہ سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔
اگر’’ آج‘‘ مرحوم احسان دانش محنت مزدوری کرکے ، ایک کالج کی بنیاد میں اپنا خون پسینہ بہا کر ، اینٹیں ڈھو کر اپنے آنے والے ’’ کل ‘‘ میں اُسی کالج میں لیکچر دینے کیلئے استاد بن سکتے ہیں ، ایک ان پڑھ خاتون شادی اور بچوں کے بعد پڑھ لکھ کر ایم بی بی ایس ڈاکٹر بن سکتی ہے تو آپ میں اور مجھ میں کیا کمی ہے ؟
اس تحریر کا اختتام کسی بڑے آدمی کے قول یا کسی اچھی بات مبنی نہیں بلکہ آپ سب قارئین اس تحریر سے کیا سبق لیں گے ؟ ہمارا اختتام بس اسی سوال پر ہے ؟
(یہ ایک سچا واقعہ ہے جو پاکستان کے معروف کالم نگار ڈاکٹر امجد ثاقب کے ایک ایک کالم سے ماخوز ہے )

اپنا تبصرہ بھیجیں