بریکنگ نیوز ناز بلوچ اورعائشہ گلا لئی کے بعد علی محمد خان تحریک انصاف کو چھوڑ گئے پی ٹی آئی پر قیامت توٹ پڑی

اسلام آبادمانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما عائشہ گلالئی اور ناز بلوچ کے پارٹی چھوڑ دینے کے بعدعلی محمد خان کے پارٹی چھوڑنے کی افواہیں۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان کے پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی ہیںکہ عائشہ گلالئی کے بعد وہ بھی تحریک انصاف چھوڑ رہے ہیں اور بہت بڑے انکشافات کرنے والے ہیں- علی محمد خان کےحوالے سے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی وقت تحریک انصاف چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں- تحریک انصاف اس وقت سخت مشکل کا شکار نظر آتی ہے جہاں ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی پارٹی کارکن پارٹی چھوڑ رہا ہے- اس حوالے سے جب تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان سے ان کا موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم پی ٹی آئی کے رہنما فیصل جاوید نے مذکورہ افواہوں کی تردید کی ہے۔دوسری جانب نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی عارف نظامی نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی خواتین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان خواتین کا بڑا احترام کرتے ہیں ،مسلم لیگ ن عائشہ گلا لئی جیسی خواتین کو ایسے سنگین الزامات کے لئے 50 ،پچاس کروڑ روپے تقسیم کر رہی ہے ،اب الیکشن کی آمد آمد ہے ،عائشہ گلا لئی کو کیا اب یاد آیا ہےکہ تحریک انصاف میں خواتین محفوظ نہیں ہیں ؟۔نجی ٹی وی ’’92 نیوز ‘‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عارف نظامی کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک جینٹل مین ہیں ،سیاست میں پرسنل اور ذاتی اٹیک نہیں ہونے چاہئے ،

یہ روایات نہ ہی پڑیں تو بہتر ہے ،شیخ رشید کو بھی ذاتی حملوں سے گریز کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی مجھے تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس ملی جس کا کہنا تھا کہ ہماری بڑی ویلیو بڑھ گئی ہے ،نون لیگپی ٹی آئی خواتین کو 50 ، پچاس کروڑ روپے عائشہ گلا لئی کی طرح کے ڈرامے کرنے کے لئے آفر کر رہی ہے ،ان کو بھی 50 کروڑ روپے دیئے ہیں یا دینے والے ہیں ،میں بڑا حیران ہوں کہ مسلم لیگ اور شریف خاندان کے پاس کوئی اپنی مشینیں لگی ہوئی ہیں تو پھر ٹھیک ہو گا ؟ہمارے ہاں تو سیاست میں کوئی اصول ہی نہیں ہے ،عائشہ گلا لئی کی طرح پارٹی چھوڑنا اور پھر قیادت پر اس طرح کے سنگین الزام عائد کرنا کوئی اچھی روایت نہیں ہے ،ہمیں اس طرح کی مثال قائم نہیں کرنا چاہئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں